کرونا کے دوران مسیحائی

لاک ڈاون کے دوران ایک احساس
کرونا ہے دنیا کے حالات یکسر بدل کر رکھ دیے ہیں ایک طرف سب کچھ ساکت ہو چکا ہے اور دوسری طرف روزمرہ کے مسائل پاکستان میں بسنے والے بیشتر غریب لوگ ،دیہاڈی دار طبقہ اور مختلف اداروں سے نکالے جانے والے ملازمین جو ان دونوں کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور حالات سے لڑنے کی کوشش میں لگے ہیں ان آزمائش کے لمحات میں ایک موقع گردش کر رہا ہے جو ہم بکھرے ہووں کو یکجان کر سکتا ہے وبا کو بھاگنے پر مجبور کر سکتا ہے ولولہ و دلیری پیدا کر سکتا ہے اس موقع کا نام “احساس”ہے
کرونا کے بہت سے منفی و تباہ کُن اثرات کے ساتھ ساتھ اس نے پاکستانیوں کے دلوں میں احساس کی شمع کو مزید بڑھا دیا ہے بھائے چارے و ہمسائیگی کی روایت کو جان بخشی ہے جہاں تک مجھے یاد یے گاوں میں بلا ججھک ہمسائے سے مدد کا اظہار کرنا کوئی معیوب نہیں سمجھا جاتا لوگ باآسانی قرضِ حسن پوچھ لیتے ہیں اسی روایت کو حالتِ تکلیف میں بحال کیا جا سکتا ہے
پاکستان کے ایک بہترین مسیحا نے ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایک ویڈیو میں کہا اگر آپ استطاعت رکھتے ہیں تو اللہ سے تجارت کریں اور اپنے دوستوں کو قرضِ حسن فراہم کریں وہ آپ کو حالات بہتر ہونے پر آپکو لوٹا دیں گے اور بالفرض اگر وہ واپس نہیں کرتے تو اخوت اس کو واپس کرنے کا زمہ اپنے سر لیتی ہے یقین جانیے یہ بات بہت موضوں اور قابلِ ستائش ہے یقینا یہ ایثار و محبت کی بات ہے جو تکلیف کو بھگانے اور شادمانی لانے کی ایک مضبوط دلیل ہے ۔
بہت سے لوگ مجھے اپنے اردگرد بھی مسیحائی کرتی نظر آئے یقینا وہ اللہ سے تجارت میں دنیا و آخرت دونوں میں منافع بخش صورتحال سے لطف اندوز ہوں گے کاروبار میں وسعت اور روزگار میں برکت ان کی منتظر ہو گی۔
پیغمبرِ مہتشم جناب حضرت محمدؐ کو جب مکہ سے مدینہ ہجرت کرنی پڑی تو انصار نے ایک ایک مہاجر بھائی کی زمہ داری لے کر ایثار کی جو روایت مسلمانوں کو بخشی وہ آج بھی نظر آتی ہے اور امتی ایثارِ انصار کے بہترین تصور سے مستفید ہوتی ہے

گزشتہ دنوں ایک دوست جو سینئر بیوروکریٹ ہیں مجھے کال کر کے فرمانے لگے گیلانی صاحب آج کل سب مشکل وقت سے گزر رہے ہیں روزگار چلے گئے ہیں جبکہ کاروبار ساکت ہو گئے ہیں تو اگر آپ مناسب سمجھیں میرے لائق کوئی حکم ہو تو میں حاضر ہوں میں نے انکا شکریہ ادا کیا کہ بھائی جان فی الحال تو اللہ کا شکر ہے البتہ اگر ضرورت پڑتی ہے تو میں ضرور آپکو یاد کروں گا ساری گفتگو کا مقصد یہی ہے کہ آپ اور ہم بھی اپنی استطاعت کے مطابق کسی دوست کا درد بانٹ سکتے ہیں ایک فون کر کے پوچھ لینے سے شاید اسکا نفسیاتی دباو کم ہو سکے کیونکہ وقت کی ایک مختلف بات ہے یہ کہ وہ اچھا ہو یا بُرا ہو گُزر ہی جاتا ہے۔
اللہ ان وبا کے دنوں میں ہمیں ایثار کی توفیق عطا فرمائے آمین

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں